Posts

Showing posts from April, 2020

مرنے کے بعد کرونا کتنے دن زندہ رہتا ہے

Image
کورونا وائرس سے متعلق کئی باتیں سامنے آئیں یہاں تک کہ اس وائرس کے سبب ہلاک ہونے والے کو کس طرح دفنانا ہے یہ بھی بتایا گیا۔ یہ خبر بھی سامنے آئی کہ یہ وبائی مرض گفتگو کرنے سے بھی ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ تو بات ہوگئی انسانوں کی لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پالتو جانوروں میں یہ وائرس پایا گیا جو ان کے مالک سے ان میں منتقل ہوا۔حال ہی میں ایک یہ خبر سامنے آئی کہ تھائی لینڈ میں ایک صحت مند شخص میں یہ وائرس مرنے والے انسان سے منتقل ہوا، مرنے والا کورونا وائرس میں مبتلا تھا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ جرنل آف فارنزک اینڈلیگل میڈیسن میں شائع ہونے والے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ فرانزک طبی ماہرین کو کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریض سے وائرس منتقل ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں لیکن کورونا سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے بائیولوجیکل نمونوں اور لاش سے وائرس لگنے کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ تاہم عالمی اداراہ صحت کے مطابق کووڈ-19 متاثرہ مریض کی لاش میں چند گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے زیادہ تحقیقات تاحال نہیں کی گئیں کہ وائرس مرے ہوئے شخص میں کتنی دیر تک...

ملک میں 26 اپریل سے 10 مئی خطرناک ثابت ہونگے

Image
سابق وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS)، پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان نے پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے 26 اپریل تا 10 مئی کے پندرہ دنوں کو ’’خطرناک‘‘ قرار دے دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کو 50 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ امریکا سمیت یورپ میں اس وائرس کی تباہ کاریاں 50 سے 60 دن کے دوران سامنے آئی تھیں۔ لہٰذا پاکستان میں بھی 26 اپریل سے 10 مئی تک  ہونگے۔ یک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں وائرس سے ہونے والی اموات  بھی دو سے ڈھائی ماہ کےدرمیان سامنے آئی ہیں۔ اب تک مہلک بیماری کا یہی طرز عمل سامنے آیا ہے۔ پروفیسر مسعود خان کا کہناتھا کہ کورونا وائرس دنیا میں 50 سے 60 دن تک ہلکے پھلکے انداز میں پھیلا لیکن پھر اس نے اچانک ہی دنیا بھر میں تباہی مچا دی۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اگر ناول کورونا وائرس کا طرزِ عمل سامنے رکھا جائے تو اس کی وبائیت کا چکر (سائیکل) 90 دن تک بنتا ہے۔ پاکستان میں ناول کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو ہوا تھا جسے اب تک 50 دن ہوچکے ہیں۔ وائرس کا طرز ...

کیا واقعی کرونا وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے؟

Image
ان دنوں سوشل میڈیا پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون کا ویڈیو پیغام زیر گردش ہے، جس میں سابق سفیر حسین ہارون نے انکشاف کیا ہے کہ’’ دنیا میں تیزی سے پھیلتا جان لیوا کرونا وائرس قدرتی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے ،کہ کوئی ایسی بیماری پیدا کی جائے جو لوگوں میں خوف و ہراس پھیلائے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ اور افواہوں کا جائزہ لینے کے بعد محسوس یہ ہوا کہ بہت سی اہم باتوں کو حذف کیا جارہا ہے۔2006 ء میں امریکا کی ایک کمپنی نے حکومت سے اس بارے میں پیٹنٹ یا منظوری حاصل کی، 2014 ء میں یہ ظاہر کرنے کے لیے یہ کسی ایک جگہ سے حاصل نہیں کیا گیا ہے تو اس کی ویکسین کی پیٹنٹ ڈالی گئی لیکن اسے نومبر 2019ء میں باقاعدہ منظور کیا گیا، اس کی ویکسین اسرائیل میں بننا شروع ہوئی۔ اس وائرس کو بنانے کے لیے جان ہاپکنز ، گیٹس فاؤنڈیشن اور ورلڈ اکنامک فورم نے مالی مدد کی۔ کرونا کو مخصوص کووڈ 19 نام دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کرونا کو سینٹر آف ڈیسیس کنٹرول (سی ڈی سی) کی اجازت سے بنایا گیا، ووہان میں بیماری پھیلانے سے پہلے مذکورہ ممالک نے اس کی دوائی بنانے کی ...

ذیابطیس کے مریض کی قوتِ مدافعت کم کیوں ہوتی ہے اور کرونا وائرس ایسے مریضوں کے لیے کس طرح خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟

Image
ذیابطیس کا شمار ایسی بیماریوں میں کیا جاتا ہے جو کہ بذات خود ایک بیماری ہونے کے ساتھ بہت ساری چھوٹی بڑی پیچیدگیوں کا باعث ہے اس کے سبب انسان کے جسم کے کئی اعضا میں ایسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ بڑے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں ان میں سے ایک بڑا مسئلہ ذیابطیس کے مریضوں کے زخم کا جلدی نہ بھرنا ہے- ذیابطیس کے مریضوں کی مدافعت ذیابطیس کے مریضوں کو زخم اور وائرس لگنے کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث جسم نیوروپیتھی کا شکار ہو جاتا ہے- اس بیماری میں اعصاب زیادہ شکر کی وجہ سے درد محسوس کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں اور بے حس ہو حاتے ہیں- خون میں زیادہ شوگر کی وجہ سے خون کی نالیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور اس میں آکسیجن اور سفید خلیات مکمل طور پر نہیں پہنچ سکتے جس کے سبب بیماری سے مدافعت کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور کسی بھی بیماری یا کرونا وائرس کے حملے کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں- ذیابطیس کے مریض کی قوت مدافعت میں اصافہ ذیابطیس کے مریض کو اپنی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے کچھ خاص احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے جن ...
Image
اسلام آباد: واٹس ایپ اور سماجی رابطے کے دیگر پلیٹ فارمز پر ایک میسج زیر گردش تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چار اپریل کی رات 12 بجے ملک بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ ہوجائے گا۔ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر پھیلنے والے میسج میں بتایا گیا تھا کہ ایکٹ نافذ ہونے کے بعد حکومت کے علاوہ کوئی بھی شخص کرونا وائرس کے حوالے سے بات نہیں کرسکے گا جبکہ غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانے والے کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور واٹس ایپ کے جس گروپ میں بات ہوگی اُس کے ایڈمن کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واٹس ایپ پر زیرگردش میسج میں بتایا گیا تھا کہ کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کرونا وائرس کے حوالے سے بات کرنے والے شخص کے خلاف دفعہ 68، 140 اور 188 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا اور اُسے سخت سزا دی جائے گی، ساتھ میں گروپ کے ایڈمن کو بھی حراست میں لیا جائے گا۔ پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے واٹس ایپ اور دیگر فارمز پر زیر گردش میسج کو جعلی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وضاحت کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ معلومات کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ یا مصدقہ ذرائع سے ہی حاصل...

وزیراعظم ہاوس کے سامنے ایک شخص نے خودسوزی کیوں کی؟ اہم وجہ سامنے آ گئی

Image
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ایک شخص نے خودسوزی کی تھی۔ ابتدائی طور پر ذرائع نے بتایا تھا کہ فیصل نامی شخص مری کا رہائشی تھا اور وہ وزیراعظم سیکریٹریٹ جانا چاہتا تھا کیونکہ اس نے وہاں اپنے مخالف کے خلاف کارروائی کی درخواست دے رکھی تھی جس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا بعد ازاں ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق مری کے رہائشی فیصل نامی شخص نے وزیراعظم سیکریٹریٹ کے گیٹ نمبر 2 کے سامنے خود کو آگ لگائی۔ مذکورہ ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے خودسوزی کرنے والے شخص کو پمزہسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ترجمان کے مطابق متوفی کے تمام معاملات راولپنڈی اور مری پولیس کے متعلقہ تھے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے خودسوزی کے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر کو فوری جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا۔ اس بارے میں چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد کا کہنا تھا کہ جوڈیشل انکوائری کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، اس انکوائری کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔ بعد ازاں چیف کمشن ر دفتر کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا نوٹیفکیشن...

چین نے اپنے شہریوں کو ایسی کون سی خوراک کھلائی جس سے کورونا وائرس ختم ہوگیا؟

Image
وبائی مرض کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اٹلی اور چین سے شروع ہونے والا یہ مرض اب شدت اختیار کر چکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ماہرین اور ڈاکٹرز نے ہمیشہ ہی اس سے بچنے کی ایک ترکیب بتائی ہے اور وہ ہے طاقتور قوت مدافعت۔ اگر آپ ایسی غذائیں استعمال کریں جو آپ کے قوت مدافعت کو بڑھائے تو یہ آپ ہی کے لئے اچھا ہوگا آپ اس وائرس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایسی خوراکیں کھلائیں جس نے ان کے مدافعتی نظام کو مضبوط کیا۔ تفصیلات کے مطابق اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آور میں ڈاکٹر عائشہ نے بطور مہمان شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ چین سے پاکستان آنے والی طبی ٹیم نے کورونا وائرس سے متعلق اپنا تجربہ شئیر کیا ہے، چینی حکومت نے اپنے شہریوں کو قوتِ مدافعت بڑھانے والی خوراک کا زیادہ استعمال کروا کے وبا پر قابو پایا۔ ڈاکٹر عائشہ نے بتایا کہ چین کی طبی ٹیم کے مطابق اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ایسی خوراک کا زیادہ استعمال کروانا چاہیے جو قوتِ مدافعت کو بڑھائیں کیونکہ اس کے بعد وائرس جسم میں کمزور پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر ...